میاں افتخار احمد
کوڈ 100 سے قیامت تک،ایران، امریکہ اور اسرائیل آمنے سامنے، آبنائے ہرمز پر خطرے کے سائے، خلیج میں نئی صف بندی اور پاکستان کے لیے کڑا امتحان۔مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایسے نازک موڑ پر کھڑا دکھائی دے رہا ہے جہاں ایک معمولی سا عسکری قدم پورے خطے کو ایک وسیع جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ ایران کی مسلح افواج کے بارے میں ’’کوڈ 100‘‘ کے نام سے ایک انتہائی حساس درجۂ تیاری اختیار کیے جانے کی اطلاعات، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کیمپ ڈیوڈ سے اچانک واپسی، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے مختصر کیے گئے امریکی دورے، امریکی سفارت خانوں کی جانب سے اپنے شہریوں کے لیے جاری ہونے والی حفاظتی ہدایات اور خلیج کے آسمان اور سمندری راستوں سے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش نے عالمی سفارتی اور عسکری حلقوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ تاہم یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان اطلاعات کو الگ الگ واقعات کے طور پر دیکھنے کے بجائے پورے خطے کی بدلتی ہوئی صورتِ حال کے تناظر میں سمجھا جائے۔ ایران کے ’’کوڈ 100‘‘ سے متعلق اطلاعات ابھی تک کسی قابلِ اعتماد سرکاری ذریعے سے آزادانہ طور پر مکمل طور پر ثابت نہیں ہوئیں، اس لیے اسے ایران کی جانب سے کسی فوری حملے کا حتمی اعلان قرار دینا درست نہیں ہوگا، لیکن یہ ضرور ہے کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری شدید کشیدگی نے خلیج فارس، آبنائے ہرمز، عراق، شام، لبنان، یمن اور خلیجی عرب ریاستوں کو ایک ایسے دباؤ میں لا کھڑا کیا ہے جس کے اثرات صرف عسکری میدان تک محدود نہیں رہیں گے۔ امریکی ادارہ کونسل آن فارن ریلیشنز یعنی CFR نے ایران کے ساتھ موجودہ تنازع کو بین الریاستی جنگ کے تناظر میں ’’بگڑتی ہوئی صورتِ حال‘‘ قرار دیا ہے اور اس کے تجزیوں میں ایران کے جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز، پابندیوں میں نرمی اور پائیدار سیاسی سمجھوتے کو بنیادی unresolved مسائل کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے۔ دوسری جانب Center for Strategic and International Studies یعنی CSIS کی حالیہ تحقیق میں ایران کی زیرِ زمین عسکری تنصیبات، توانائی کے بحران اور مشرقِ وسطیٰ کے بدلتے ہوئے سلامتی کے نظام پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ بحران محض میزائلوں اور فضائی حملوں کا معاملہ نہیں بلکہ پورے علاقائی نظام کی ازسرِنو تشکیل کا مرحلہ بن سکتا ہے۔ ایران کے حوالے سے سب سے زیادہ زیرِ بحث امکان آبنائے ہرمز کا ہے۔ دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہونے والی یہ آبنائے خلیج فارس کو بحیرہ عمان اور پھر بحرِ ہند سے ملاتی ہے اور عالمی توانائی کی رسد کے لیے اس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ اگر یہاں جہاز رانی متاثر ہوتی ہے، تیل اور گیس کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے یا تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ بڑھتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایران اور خلیجی ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی منڈی، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، فضائی و بحری تجارت اور ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں واشنگٹن اور اس کے عرب اتحادی آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے متبادل راستوں پر بھی غور کر رہے ہیں۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکہ نے عرب اتحادیوں کے ساتھ ایک ایسے مالی منصوبے پر بات چیت کی ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والی توانائی کی ترسیل پر انحصار کم کرنے کے لیے پائپ لائنوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینا ہے۔ دوسری طرف ایران کی طرف سے یہ اشارے بھی سامنے آئے ہیں کہ اگر امریکی عسکری دباؤ کم ہو اور بعض پابندیوں یا ناکہ بندی کے اقدامات میں نرمی آئے تو آبنائے ہرمز کے معاملے پر دوبارہ بات چیت کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ اور سفارت کاری بیک وقت جاری رہنے والے دو متوازی راستے بن چکے ہیں۔ ایران کے ممکنہ اگلے قدم کے بارے میں عالمی تجزیہ کار کئی امکانات بیان کر رہے ہیں، لیکن کسی ایک امکان کو یقینی پیش گوئی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ ایک امکان یہ ہے کہ ایران براہِ راست امریکہ یا اسرائیل کے ساتھ وسیع جنگ میں جانے کے بجائے محدود مگر دباؤ بڑھانے والی کارروائیوں کا راستہ اختیار کرے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ خلیجی امریکی تنصیبات، توانائی کے مراکز یا سمندری راستوں پر دباؤ بڑھایا جائے۔ تیسرا راستہ خطے میں ایران سے وابستہ مسلح گروہوں کے ذریعے بالواسطہ دباؤ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ یمن میں حوثی حملوں نے پہلے ہی سعودی عرب، بحیرہ احمر اور عالمی جہاز رانی کے لیے ایک اضافی خطرہ پیدا کر رکھا ہے۔

رائٹرز کی حالیہ رپورٹوں کے مطابق حوثی حملوں نے سعودی شہروں، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بحری جہاز رانی کو خطرات سے دوچار کیا ہے۔ یہاں یہ فرق سمجھنا بھی ضروری ہے کہ کسی گروہ کی کارروائی اور ایران کی براہِ راست عسکری کارروائی ایک ہی چیز نہیں، تاہم علاقائی طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں ایسے غیر ریاستی مسلح گروہوں کا کردار جنگ کو پھیلانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسرائیل کی پوزیشن بھی انتہائی پیچیدہ ہے۔ اسرائیل کی بنیادی تشویش ایران کی جوہری صلاحیت، میزائل پروگرام اور خطے میں ایران کے اتحادی مسلح گروہوں سے متعلق ہے۔ دوسری طرف واشنگٹن کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ ایران کے خلاف طویل جنگ صرف فوجی کارروائی کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے ساتھ امریکی فوجیوں کی حفاظت، خلیجی اتحادیوں کا دفاع، عالمی توانائی کی منڈی، امریکی داخلی سیاست اور چین و روس کے ساتھ بڑی طاقتوں کی مسابقت بھی جڑی ہوئی ہے۔ اسی لیے امریکی پالیسی میں ایک طرف شدید عسکری دباؤ اور دوسری طرف مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کی کوشش بیک وقت دکھائی دیتی ہے۔ رائٹرز کی 22 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کو مکمل طور پر تنہا کرنے پر زور دیا جبکہ ایران کی جانب سے بھی آبنائے ہرمز کے بارے میں مذاکرات کی گنجائش کے اشارے سامنے آئے۔ اس پورے منظرنامے میں سعودی عرب کا کردار بھی انتہائی اہم ہوچکا ہے۔ سعودی عرب اپنی سرزمین، توانائی کے مراکز اور شہری آبادی کو میزائل اور ڈرون حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے دفاعی صلاحیت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے دفاعی نظام پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور بعض دفاعی ضروریات کے باعث ریاض نے فرانس، برطانیہ، پاکستان اور مصر سمیت مختلف ممالک سے عسکری معاونت کے امکانات پر رابطے کیے ہیں، تاہم کسی بھی ملک کی براہِ راست جنگ میں شمولیت کو خودکار یا یقینی قرار نہیں دیا گیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی اہمیت غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ مکہ مکرمہ دفاعی معاہدے کے ذریعے اپنے دفاعی تعلقات کو ایک نئی سطح تک پہنچایا ہے۔ International Institute for Strategic Studies یعنی IISS کے مطابق 7 اگست 2026 کو ہونے والے اس معاہدے نے پاکستان، سعودی عرب اور خطے کے دفاعی ڈھانچے میں ایک نئی جہت پیدا کی ہے۔ تاہم پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں اور اسے کسی نئے فوجی اتحاد یا بلاک کے قیام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران، سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان موجودہ کشیدگی پاکستان کے لیے ایک غیر معمولی سفارتی امتحان بھی ہے۔ ایک طرف پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ برادرانہ، معاشی اور دفاعی تعلقات ہیں، دوسری طرف ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ طویل زمینی سرحد، سرحدی سلامتی، تجارت، توانائی اور علاقائی امن کے معاملات براہِ راست وابستہ ہیں۔ پاکستان کے لیے سب سے حساس مسئلہ یہی ہے کہ خطے میں کسی بھی بڑے تصادم کے نتیجے میں اسے ایک ایسے توازن کو برقرار رکھنا ہوگا جس میں سعودی عرب کے ساتھ دفاعی وعدے بھی متاثر نہ ہوں اور ایران کے ساتھ ہمسایہ ریاست کی حیثیت سے تعلقات بھی خراب نہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ بحران پاکستان کے لیے محض خارجہ پالیسی کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، توانائی، تجارت، ترسیلاتِ زر اور داخلی معیشت سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ پاکستان کی معیشت کے لیے خلیجی ممالک سے آنے والی ترسیلاتِ زر انتہائی اہم ہیں۔ اگر خلیج میں طویل جنگ چھڑتی ہے، توانائی کی قیمتیں بڑھتی ہیں یا سمندری راستوں میں شدید رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ملک پر براہِ راست دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ سرحدی علاقوں میں سلامتی کی صورتِ حال بھی زیادہ حساس ہوسکتی ہے۔ اس لیے اسلام آباد کے لیے سفارتی کوششوں کا ایک اہم مقصد جنگ کے پھیلاؤ کو روکنا اور مذاکرات کی گنجائش برقرار رکھنا ہوسکتا ہے۔ یہی پہلو پاکستان کو ایک ممکنہ رابطہ کار کے طور پر بھی اہم بناتا ہے، اگرچہ کسی بھی ثالثی کردار کی کامیابی کا انحصار متعلقہ فریقوں کی رضامندی پر ہوگا۔ ادھر Chatham House کے تجزیے میں اس جنگ کے ممکنہ علاقائی اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ خلیج میں امریکی بالادستی کے بارے میں عرب ریاستوں کی سوچ تبدیل ہوسکتی ہے اور ایران کے اثر و رسوخ، علاقائی طاقت کے توازن اور چین کے لیے پیدا ہونے والے سفارتی مواقع پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ اس تجزیے کا اہم پہلو یہ ہے کہ اگر موجودہ جنگ طویل ہوتی ہے تو جنگ کا نتیجہ صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ سفارتی تعلقات، دفاعی معاہدوں، توانائی کے راستوں اور علاقائی اتحادوں کی نئی ترتیب میں بھی ظاہر ہوسکتا ہے۔ Atlantic Council کے تجزیوں میں بھی خلیجی سلامتی کے لیے علاقائی تعاون اور آبنائے ہرمز کے گرد نئے حفاظتی انتظامات کے امکانات پر بحث سامنے آتی رہی ہے۔ اس سے ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مشرقِ وسطیٰ میں آنے والے برسوں کے لیے ایسا نیا سلامتی کا نظام تشکیل پاسکتا ہے جس میں صرف امریکہ کی فوجی موجودگی پر انحصار کم ہو اور علاقائی ریاستیں اپنی اجتماعی دفاعی صلاحیت بڑھائیں۔ مکہ مکرمہ دفاعی معاہدہ، سعودی عرب اور ترکی کے بڑھتے ہوئے تعلقات، پاکستان کی دفاعی شراکت داری اور خلیجی ریاستوں کی بدلتی ہوئی حکمتِ عملی اسی وسیع تر تبدیلی کے تناظر میں دیکھی جا سکتی ہے۔ تاہم اس عمل کو ابھی مکمل علاقائی فوجی اتحاد قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بھی اس معاہدے کو دفاعی اور علاقائی امن کے لیے معاون قرار دیا ہے، نہ کہ کسی نئے فوجی بلاک کا آغاز۔ اب سوال یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں صورتحال کس سمت جاسکتی ہے۔ ایک ممکنہ منظرنامہ محدود کشیدگی کا ہے جس میں میزائل حملوں، ڈرون کارروائیوں، سمندری دباؤ اور محدود فوجی جوابی کارروائیوں کے ذریعے ایک دوسرے پر دباؤ برقرار رکھا جائے مگر مکمل علاقائی جنگ سے گریز کیا جائے۔ دوسرا منظرنامہ زیادہ خطرناک ہے جس میں آبنائے ہرمز، خلیجی توانائی کے مراکز اور امریکی فوجی اڈے براہِ راست تنازع کا حصہ بن جائیں اور یمن، عراق، شام اور لبنان سمیت متعدد محاذ ایک دوسرے سے جڑ جائیں۔ تیسرا منظرنامہ سفارتی پیش رفت کا ہے جس میں عسکری دباؤ کے باوجود امریکہ، ایران اور دیگر علاقائی طاقتیں کسی محدود سمجھوتے، جنگ بندی یا سلامتی کے نئے انتظام کی طرف بڑھیں۔ ان تینوں امکانات میں سے کسی ایک کو حتمی مستقبل قرار دینا درست نہیں، کیونکہ موجودہ بحران میں کئی عوامل بیک وقت تبدیل ہورہے ہیں۔ خود CFR نے تنازع کے بنیادی مسائل میں جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے ساتھ پائیدار سیاسی سمجھوتے کو نمایاں کیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ جنگ کا اصل اختتام صرف فوجی کارروائی سے نہیں بلکہ کسی سیاسی بندوبست سے جڑا ہوا ہے۔ یہاں ایک اور اہم پہلو عالمی طاقتوں کی کشمکش ہے۔ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اتحادیوں کی حفاظت اور اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے، چین خطے میں توانائی اور تجارت کے مفادات رکھتا ہے جبکہ روس بھی خطے کی طاقت کے توازن میں اپنا کردار برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان طویل محاذ آرائی جاری رہتی ہے تو چین کے لیے خلیجی ریاستوں کے ساتھ اقتصادی اور سفارتی روابط بڑھانے کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ Chatham House نے بھی اس امکان کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جنگ کے نتیجے میں خلیج کے موجودہ سلامتی کے ڈھانچے میں تبدیلی آسکتی ہے۔ اس پوری صورتحال میں سب سے زیادہ توجہ ان عملی اشاروں پر دینی چاہیے جو بحران کی شدت میں حقیقی تبدیلی ظاہر کرسکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت، خلیجی ممالک میں فضائی دفاعی نظام کی سرگرمی، امریکی فوجی نقل و حرکت، اسرائیلی فضائی کارروائیوں کی نوعیت، ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کا دائرہ، یمن میں حوثی کارروائیوں کی شدت، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت، سفارتی رابطوں کی رفتار اور جنگ بندی یا مذاکرات کے لیے سامنے آنے والی تجاویز وہ عوامل ہیں جو کسی بھی ’’کوڈ‘‘ یا غیر مصدقہ خبر سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ اس لیے ’’کوڈ 100‘‘ کی اطلاع کو ایک حساس انتباہ کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے، لیکن اسے جنگ کے یقینی آغاز کی سند سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ایران نے مبینہ طور پر کون سا کوڈ فعال کیا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایران، امریکہ، اسرائیل اور خلیجی ممالک ایک ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں ایک محدود کارروائی بھی بڑے تصادم میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ یہی وہ سوال ہے جس نے واشنگٹن، تل ابیب، تہران، ریاض اور دیگر دارالحکومتوں کو غیر معمولی دباؤ میں ڈال رکھا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی اب صرف ایران اور اسرائیل یا ایران اور امریکہ کا دو طرفہ تنازع نہیں رہی بلکہ یہ توانائی، تجارت، دفاع، سفارت کاری، علاقائی اتحادوں اور عالمی طاقتوں کے مفادات کا ایک پیچیدہ جال بن چکی ہے۔ پاکستان کے لیے اس بحران کا سبق بھی واضح ہے کہ آنے والے دنوں میں جذباتی نعروں سے زیادہ متوازن سفارت کاری، قومی سلامتی کے تقاضوں، توانائی کے تحفظ، سرحدی نگرانی اور خلیجی ممالک کے ساتھ مضبوط رابطے کی ضرورت ہوگی۔ اگر خطے میں کشیدگی محدود رہتی ہے تو سفارتی رابطے وسیع کرنے کا موقع پیدا ہوسکتا ہے، اگر جنگ پھیلتی ہے تو پاکستان کو اپنی سرحدوں، معیشت اور توانائی کے تحفظ کے لیے فوری اور جامع حکمتِ عملی درکار ہوگی، اور اگر مذاکرات کا دروازہ کھلتا ہے تو پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت، مسلم دنیا میں روابط اور سعودی عرب و ایران دونوں سے تعلقات کی بنیاد پر ایک تعمیری سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ یوں آج کی اصل خبر صرف ’’کوڈ 100‘‘ نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کی ممکنہ تبدیلی ہے۔ اصل خطرہ صرف ایک میزائل نہیں بلکہ وہ سلسلہ ہے جس میں ایک حملہ جوابی حملے کو، جوابی حملہ علاقائی محاذ کو اور علاقائی محاذ عالمی توانائی کے بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ دنیا کی نظریں اب تہران، تل ابیب، واشنگٹن اور ریاض پر ہیں، مگر اس بحران کے اثرات اسلام آباد تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ یہ کشیدگی ایک محدود عسکری تصادم تک رہتی ہے، کسی بڑے علاقائی بحران میں تبدیل ہوتی ہے یا پھر شدید دباؤ کے بعد سفارت کاری کے ذریعے ایک نئے علاقائی سمجھوتے کی بنیاد بنتی ہے۔ فی الحال کسی حتمی نتیجے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ دنیا ان تمام اشاروں کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے جو خلیج فارس کے امن، آبنائے ہرمز کی آزادی، عالمی توانائی کی ترسیل اور مشرقِ وسطیٰ کے آئندہ سلامتی کے نظام کے بارے میں سامنے آرہے ہیں۔
